Saturday, January 26, 2013

وسیلہ

مسئلہ ۶۵ : از ریاست لشکر گوالیار بازار پاٹنگر مسئولہ عطا حسین صاحب مہتمم مدرسہ تعلیم القرآن واقع مسجد بازار مذکور ۱۵ صفر ۱۳۳۷ھ

بسم اللہ الرحمن الرحمیم، نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریمامابعد، کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اعلان کرنے والے صاحب کی بابت جو باوجود اہل علم اور سنت وجماعت ہونے کے اپنے اعلان کی سطر چودہ وپندرہ میں تحریرفرماتے ہیں، اعتراض اول یہ کہ اعلان کے شروع میں نہ حمد ہے۔ نہ نعت۔اعتراض دوم سطور پندرہ وچودہ میں نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا وسیلہ بھی تحریر نہیں، یہ دونوں اعتراض صحیح ہیں یا غلط؟ اگر صحیح ہیں تو اعلان کرنے والے صاحب کے حق میں شرعی حکم کیا ہے؟ اور وہ اہل سنت وجماعت کہے جاسکتے ہیں؟ اور اگر غلط ہے تو کس طرح؟ بینوا توجروا (بیان فرماؤ تاکہ اجر وثواب پاؤ۔ت) امید ہے کہ حسب ذیل پتہ پر جواب باصواب سے مطلع فرمائیں گے تاکہ اس کو شائع کردیا جائے۔

الجواب
جب سوال میں اعلان دہندہ کے سنی ذی علم ہونے کا اقرار ہے تو سنی خصوصا ذی علم پر ایسی باتوں میں مواخذہ کوئی وجہ نہیں رکھتا، شروع میں حمد ونعت، نہ لکھنا ممکن کہ بلحاظ ادب ہو کہ ایسے پرچے لوگ احتیاط سے نہیں رکھتے ، اور وقت تحریر زبان سے ادا کرلینا کافی ہے۔ جیسا کہ امام ابن الحاجب نے کافیہ میں کیا مسلمان پر نیک گمان کا حکم ہے،

قال اللہ تعالٰی: ظن المومنون والمؤمنت بانفسہم خیرا ۱؎۔مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو اپنے لوگوں پراچھا گمان کرنا چاہئے۔ (ت)

(۱؎ القرآن الکریم ۲۴/ ۱۲)

سطر چودہ میں ہے: ''وہ ہماری خطاؤں کو محض اپنے فضل وکرم سے معاف فرمائے''، اس میں توسل کا ذکر نہیں تو معاذاللہ توسل سے انکار بھی تو نہیں، اور سنی کیونکر انکار کرے گا اور انکار کرے تو سنی کب ہوگا، مسلمان کے دل میں حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے توسل رچا ہوا ہے اس کی کوئی دعا توسل سے خالی نہیں ہوتی اگرچہ بعض وقت زبان سے نہ کہے،

مولٰنا قدس سرہ مثنوی شریف میں فرماتے ہیں: ؎اے بسانا وردہ استثنا بہ گفت جان اوباجان استثنا ست حقت ۲؎ (اے شخص کہ بسا اوقات تیرے کلام میں استثناء نہیں لایا گیا اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی جان استثناء کی جان سے گانٹھی ہوئی ہے۔ ت)

(۲؎ مثنوی معنوی دفتر اول حکایت عاشق شدن بادشاہ برکنیز ک نورانی کتب خانہ پشاور ص۵)

اور ''محض'' کا لفظ معاذاللہ تو سل کی نفی نہیں، دین ودنیا وجسم وجان میں جو نعمت کسی کو ملی اور ملتی ہے اور ابدالآباد تک ملے گی سب حضور اقدس خلیفۃ اللہ الاعظم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے وسیلے اور حضور کے مبارک ہاتھوں سے ملی اور ملتی ہے اور ابدا الاباد تک ملیگیقال النبی انما انا قاسم ، واﷲ المعطی ۱؎دینے والا اللہ ہے ور بانٹنے والا میں۔ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم۔

(۱؎ مسند احمد بن حنبل ترجمہ ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ دارالفکربیروت ۲/ ۲۳۴)

بایں ہمہ جو نعمت ہے اللہ عزوجل کے محض فضل و کرم سے ہے۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا وسیلہ وواسطہ وقاسم ہر نعمت ہونا یہ بھی تو محض فضل وکرم الٰہی جل وعلا ہے۔فبما رحمۃ من اﷲ لنت لہم ۲؎اے محبوب اللہ کی کتنی رحمت ہے کہ تم ان کے لئے نرم ورحیم ومہربان ہوئے۔

والحمدﷲ رب العلمین وصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم( ہرتعریف اللہ تعالٰی کے لئے ہے جو پروردگار ہے سارے جہانوں کا ۔ حضور پر اللہ تعالٰی کی رحمت اور سلام ہو۔ ت)

(۲؎ القرآن الکریم ۳/ ۱۵۹)

اعتراض اگر چہ صحیح نہیں مگر میں معترض کے اس حسن اعتقاد کی داد دیتاہوں کہ تو سل اقدس کا ذکر نہ آنا اسے ناگوار ہوا،جزاہ اﷲ خیرا، واﷲ تعالٰی اعلم۔(اللہ تعالٰی سائل کو بہت اچھا صلہ عطا فرمائے، اور اللہ تعالٰی سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہے۔ ت)


No comments:

Post a Comment